المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حدیث نمبر: 3527
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ... فَذَكَرَ حَدِيثًا .
قَالَ يَزِيدُ : وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ : تَاهُوا فِي اثْنَيْ عَشَرَ فَرْسَخًا أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَجُعِلَ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ حَجَرٌ لَهُ مِثْلُ رَأْسِ الثَّوْرِ ، إِذَا نَزَلُوا انْفَجَرَ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا "ترجمہ
فضل بن عطیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”وہ (بنی اسرائیل) بارہ فرسخ کے رقبے میں چالیس سال تک (وادیِ تیہ میں) سرگرداں اور بھٹکتے رہے، اور ان کے درمیان ایک ایسا پتھر رکھ دیا گیا تھا جو بیل کے سر کی مانند تھا، چنانچہ جب بھی وہ کہیں پڑاؤ ڈالتے تو اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑتے تھے۔“
یزید بن ہارون نے فضل بن عطیہ سے یہ اثر نقل کیا ہے۔