المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القراء باب: قراءِ کرام کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَرَأَ أَوَّلَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ سَرَقَ آخِرَهُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَرَأَ أَوَّلَ اللَّيْلِ حَجَزَهُ آخِرَهُ عَنْ أَنْ يَسْرِقَ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض گزاری: ”اے اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے رات کے ابتدائی حصے میں (قرآن کی) تلاوت کی، پھر اسی رات کے آخری حصے میں چوری کا ارتکاب کر لیا؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا: ”اگر اس نے رات کے ابتدائی حصے میں (اخلاص کے ساتھ) تلاوت کی ہوگی، تو وہی تلاوت اسے رات کے آخری حصے میں چوری کرنے سے باز رکھے گی۔“
اس حدیث کی سند میں راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہیں، تاہم اس کا مفہوم قرآن مجید کی اس آیت کے عین مطابق ہے: ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾ [سورة العنكبوت: 45] کہ بے شک نماز (اور اللہ کا ذکر) بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روک دیتی ہے۔