المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القراء باب: قراءِ کرام کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، ثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَهُمْ جُلُوسٌ يَنْتَظِرُونَهُ ، فَلَمَّا خَرَجَ وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَجَلَسَ فَقَالَ : " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَتَشْهَدُونَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ ، وَتَشْهَدُونَ أَنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مِنْ عِنْدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ " قَالُوا : بَلَى نَشْهَدُ عَلَى هَذَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْشِرُوا فَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ مِنَ اللهِ تَعَالَى طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ تَعَالَى ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ، لَا تَضِلُّوا وَلَا تَهْلِكُوا بَعْدَهُ أَبَدًا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرے جبکہ وہ بیٹھے ہوئے آپ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے، چنانچہ جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو ان کے پاس کھڑے ہوئے، پھر تشریف فرما ہوئے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ یہ قرآن اللہ عزوجل کی جانب سے نازل کردہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں! ہم ان سب باتوں کی گواہی دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں خوشخبری ہو! بے شک یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک وسیلہ اور مضبوط تعلق (رسی) ہے جس کا ایک سرا اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، پس تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو، تو تم اس کے بعد کبھی بھی نہ تو راہِ حق سے بھٹکو گے اور نہ ہی ہلاک ہو گے۔“
اس حدیث کی سند جید ہے، اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام بزار اور امام طبرانی نے بھی اس کی تخریج کی ہے اور علامہ البانی نے اسے 'سلسلہ احادیث صحیحہ' (حدیث نمبر 713) میں صحیح قرار دیا ہے۔