المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ مَا كان فِي بَنِي إسرائيل باب: بنی اسرائیل میں پیش آنے والے احوال و واقعات کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَبَدَ اللهَ تَعَالَى رَاهِبٌ فِي صَوْمَعَتِهِ سِتِّينَ سَنَةً ، فَنَزَلَتِ امْرَأَةٌ إِلَى جَنْبِهِ ، فَنَزَلَ إِلَيْهَا ، فَكَانَ مَعَهَا سِتَّ لَيَالٍ ، ثُمَّ سُقِطَ فِي يَدِهِ ، فَهَرَبَ فَأَتَى مَسْجِدًا فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَةً لَا يَطْعَمُ ، ثُمَّ أَتَى بِرَغِيفٍ فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ ، فَأَعْطَى مِسْكِينًا عَنْ يَمِينِهِ نِصْفَهُ ، وَآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ نِصْفَهُ ، ثُمَّ قَبَضَهُ اللهُ تَعَالَى ، فَوُزِنَ السِّتُّونَ سَنَةً فِي كِفَّةٍ ، وَالسِّتُّ اللَّيَالِي فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَتِ السِّتُّ ، فَوُزِنَ السِّتُّ بِالرَّغِيفِ فَرَجَحَ الرَّغِيفُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ایک راہب نے اپنے عبادت خانے میں ساٹھ برس تک اللہ تعالیٰ کی بندگی کی، پھر ایک عورت اس کے پہلو میں آ کر مقیم ہوئی تو وہ راہب اس کے پاس نیچے اتر آیا اور اس کے ساتھ چھ راتیں گزاریں، پھر وہ اپنی اس لغزش پر سخت پشیمان اور نادم ہوا اور وہاں سے بھاگ نکلا، پھر وہ ایک مسجد میں پہنچا اور وہاں تین دن تک اس حال میں مقیم رہا کہ اس نے کچھ نہ کھایا تھا، اسی دوران اسے ایک روٹی دی گئی تو اس نے اس کے دو ٹکڑے کیے اور آدھی روٹی اپنے دائیں طرف والے ایک مسکین کو اور آدھی اپنے بائیں طرف والے دوسرے مسکین کو دے دی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی روح قبض کر لی، چنانچہ اعمال کے ترازو میں جب ایک پلڑے میں اس کی ساٹھ سالہ عبادت رکھی گئی اور دوسرے میں وہ چھ راتیں تو وہ چھ راتیں گناہ کے بوجھ کی وجہ سے غالب آ گئیں، پھر جب ان چھ راتوں کا وزن اس ایک روٹی کے صدقے کے مقابلے میں کیا گیا تو وہ روٹی ان پر بھاری ثابت ہوئی۔“
تخریج: یہ اثر صحیح ہے، اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند (3468) میں، ابن ابی شیبہ نے المصنف (34484) میں اور بیہقی نے شعب الایمان (3144) میں روایت کیا ہے۔