المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ باب: نمازیوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ ، فَاسْتَخْدَمَهُ ، فَوَعَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ أَصَابَ سَبْيًا .
فَلَقِيَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَبَا الْهَيْثَمِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَصَابَ سَبْيًا ، قَالَ : فَائْتِهِ فَإِنَّهُ مُنْجِزٌ وَعْدَكَ . فَمَضَى أَبُو الْهَيْثَمِ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَبُو الْهَيْثَمِ أَتَاكَ يَنْتَجِزُ وَعْدَكَ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَصَبْنَا غُلَامَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " . قَالَ : فَإِنِّي أَسْتَشِيرُكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ هَذَا فَقَدْ صَلَّى عِنْدَنَا ، وَلَا تَضْرِبْهُ ، فَإِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ " .
أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " مُخْتَصَرٌ .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ابو الہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور ایک خادم کی درخواست کی، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ اگر (جنگ کے نتیجے میں) قیدی آئے تو انہیں عنایت فرمائیں گے۔
پھر ان کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اے ابو الہيثم! نبی کریم ﷺ کے پاس قیدی آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں کیونکہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا فرمائیں گے۔ چنانچہ ابو الہیثم اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ابو الہیثم آپ کے پاس اپنا وعدہ پورا کروانے کی خاطر آئے ہیں؟ اس پر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ہمارے پاس دو سیاہ فام غلام آئے ہیں، تم ان میں سے جسے چاہو منتخب کر لو۔“ انہوں نے عرض کی: (اے اللہ کے رسول!) میں اس انتخاب میں آپ سے مشورہ چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اس (غلام) کو اپنے پاس رکھ لو کیونکہ اس نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی ہے، اور اسے ہرگز نہ مارنا، کیونکہ ہمیں نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔“
اسے امام ترمذی نے حدیث کے اس حصے ”جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے“ کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے۔