المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُصَلَّى إِلَيْهِ وَمَا لَا يُصَلَّى إِلَيْهِ باب: جن چیزوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ( إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي ، فَمَرَّ الْحَارِثُ بَيْنَ يَدَيْهِ - أَوْ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ - حَتَّى هَمَّ أَنْ يَأْخُذَ شَعَرَهُ ، فَشَكَى الْحَارِثُ إِلَى مَرْوَانَ ، فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ إِلَى مَرْوَانَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : إِنَّكُمْ إِنْ أَطَعْتُمْ هَذَا وَأَصْحَابَهُ لَيُهَوِّدُنَّكُمْ .
فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : [قَدْ] كَذَبْتَ وَاللهِ ، لَوْ تَهَوَّدْتَ أَنْتَ وَأَبُوكَ مَا تَهَوَّدْنَا مَعَكُمَا ) .
قَالَ أَيُّوبُ : قَالَ مُحَمَّدٌ : صَدَقَ ، قَدْ عُرِضَتْ عَلَيْهِمُ الْيَهُودِيَّةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَبَوْهَا .محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے کہ حارث ان کے سامنے سے گزرنے لگا - یا اس نے گزرنے کا ارادہ کیا - تو انہوں نے (اسے روکنے کے لیے) یہاں تک قصد کیا کہ اس کے بال پکڑ لیں، جس پر حارث نے مروان سے اس کی شکایت کی۔ چنانچہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ مروان کے پاس تشریف لائے تو مروان نے (طعنہ دیتے ہوئے) کہا: ”اگر تم لوگوں نے اس شخص اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت کی تو یہ تمہیں ضرور یہودی بنا دیں گے۔“ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! تو نے جھوٹ بولا ہے، اگر تو اور تیرا باپ بھی یہودی ہو جائیں تب بھی ہم تمہارے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کبھی یہودی نہیں بنیں گے۔“
ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ان (انصار) کے سامنے یہودیت پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔“