المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الاستعاذة باب: استعاذہ (یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3420
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ حَقٌّ ، وَأَنَّ لِقَاءَهُ حَقٌّ ، وَأَنَّ السَّاعَةَ حَقٌّ ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ "
مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ برحق ہے، اس سے ملاقات برحق ہے، قیامت کا وقوع برحق ہے، جنت برحق ہے اور جہنم کی آگ برحق ہے“، نیز انہوں نے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ» ”اے اللہ! میں زندگی اور موت کی آزمائش سے، قبر کے عذاب سے اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔
یہ روایت موقوف صحیح ہے۔