المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ حسرة مِنْ تفرق مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ باب: اللہ کے ذکر کے بغیر (کسی مجلس سے) رخصت ہونے والوں کی حسرت و پشیمانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3416
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ ، ثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ قَطُّ مَجْلِسًا ، لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ تَعَالَى ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب بھی کچھ لوگ کسی ایسی مجلس میں اکٹھے بیٹھتے ہیں جس میں وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے، تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے یقیناً باعثِ حسرت و ندامت ہو گی۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، جبکہ علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے نقل کرتے ہوئے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔