المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى لزوم التسبيح باب: تسبیح کی پابندی کی ترغیب کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ : قُلْتُ لِفَقِيهٍ بِمَكَّةَ : إِنَّ لَنَا فَقِيهًا أَعْنِي الْحَسَنَ إِذَا سَكَتَ فَإِنَّمَا هِجِّيرَاهُ : سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ ، فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَفَقِيهٌ ، مَا قَالَهَا عَبْدٌ سَبْعَ مَرَّاتٍ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ .ایک شخص سے روایت ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ کے ایک فقیہ (صاحبِ بصیرت عالم) سے عرض کیا: ”ہمارے ہاں ایک فقیہ ہیں—میرا مقصود امام حسن بصری رحمہ اللہ ہیں—جب وہ گفتگو سے خاموش ہوتے ہیں تو ان کا دائمی وظیفہ اور تکیہ کلام بس یہی ہوتا ہے: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے اللہ اپنی حمد و ثنا کے ساتھ، پاک ہے اللہ جو نہایت عظمت والا ہے۔“ تو ان (مکی عالم) نے فرمایا: ”یقیناً تمہارے یہ صاحب بہت بڑے فقیہ ہیں، کیونکہ جو بندہ بھی سات مرتبہ یہ کلمات ادا کرتا ہے تو اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کر دیا جاتا ہے۔“
[أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف: 30408، یہ قول امام حسن بصری رحمہ اللہ کے فضائل اور ان کے دائمی ذکر کی عادت کو بیان کرتا ہے]