المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُصَلَّى إِلَيْهِ وَمَا لَا يُصَلَّى إِلَيْهِ باب: جن چیزوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، ان کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ] ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَا : ثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ( كُنْتُ أُصَلِّي إِلَى قَبْرٍ ، فَرَآنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : الْقَبْرَ ، الْقَبْرَ ، فَجَعَلْتُ لَا أَفْهَمُ مَا يُرِيدُ ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : الْقَبْرُ أَمَامَكَ ) .
339 \ 2 - قَالَا : وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ .
هَذَا خَبَرٌ صَحِيحٌ عَلَّقَهُ الْبُخَارِيُّ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں ایک قبر کی جانب رخ کر کے نماز ادا کر رہا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس حال میں دیکھا تو وہ پکار کر کہنے لگے: ”قبر! قبر!“ میں ان کی مراد نہ سمجھ پایا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں، چنانچہ میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا لیا (یہ سمجھ کر کہ شاید وہ چاند یا بادل دیکھنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں)، تب انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”قبر تمہارے بالکل سامنے ہے (یعنی قبر کی سمت رخ کر کے نماز نہ پڑھو)۔“ “ نیز ایک دوسری سند کے مطابق حسن بصری رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔
یہ خبر صحیح ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بطور تعلیق ذکر کیا ہے۔