المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَخْذِ مضجعه باب: اس باب کا بیان کہ جب انسان اپنی آرام گاہ یا بستر پر لیٹے تو اسے کیا کہنا چاہیے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثَنَا سَلَمَةُ هُوَ ابْنُ وَرْدَانَ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ؟ تُهَلِّلِينَ اللهَ تَعَالَى ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ عِنْدَ مَنَامِكِ ، وَتُسَبِّحِينَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدِينَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَإِنَّ تِلْكَ مِائَةٌ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ سے اپنی معاشی تنگی اور حاجت مندی کی شکایت کی، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز کی رہنمائی نہ کروں جو تمہارے لیے اس (دنیاوی ضرورت) سے بہتر ہو؟ تم سوتے وقت تینتیس مرتبہ اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرو یعنی «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہو، تینتیس مرتبہ اس کی پاکی بیان کرو یعنی «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ ہر عیب سے پاک ہے“ کہو، اور چونتیس مرتبہ اس کی حمد و ثنا بیان کرو یعنی «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہو، پس یہ مکمل سو کلمات تمہارے لیے دنیا اور اس میں موجود تمام تر نعمتوں سے کہیں بہتر ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، جس کی سند میں موجود راوی سلمہ بن وردان اگرچہ ضعیف ہے، لیکن سوتے وقت ان تسبیحات کے فضائل صحیحین کی دیگر مستند روایات سے بھی ثابت ہیں۔