المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُصَلَّى عَلَيْهِ وَفِيهِ باب: جن چیزوں پر اور جن میں نماز پڑھی جائے، ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 334
قَالَ أَبُو بَكْرِ [ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ] : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا ؟ قَالَتْ [ عَائِشَةُ ] رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : لَا ، لَمْ يَكُنْ [رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] يُصَلِّي عَلَيْهِ .
.
334 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .ترجمہ
سیدنا شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: ”کیا رسول اللہ ﷺ چٹائی پر نماز ادا فرمایا کرتے تھے؟ کیونکہ میں نے اللہ عزوجل کی کتاب میں یہ فرمانِ الٰہی پڑھا ہے: ﴿وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا﴾ [سورة الإسراء: 8]۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نہیں، آپ ﷺ چٹائی پر نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔“
امام ابوبکر بن ابی شیبہ کی اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے بھی انہی کی سند سے نقل کیا ہے۔