❮
❯
حدیث نمبر: 3317
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرُّومِيُّ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَهَاجَتِ الرِّيحُ فَوَقَعَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ وَرَقٍ نَخِرٍ ، وَبَقِيَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ وَرَقٍ أَخْضَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَثَلُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ؟ " قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ إِذَا اقْشَعَرَّ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ تَعَالَى وَقَعَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ وَبَقِيَتْ لَهُ حَسَنَاتُهُ " .
3317 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ الْعَبَّاسِ ، عَنْ أَبِيهَا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، مُقْتَصِرًا عَلَى قَوْلِهِ : " إِذَا اقْشَعَرَّ جِلْدُ الْعَبْدِ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ تَعَالَى تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ عَنِ الشَّجَرَةِ الْيَابِسَةِ وَرَقُهَا " .
ترجمہ

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک تیز ہوا چلی جس کے نتیجے میں درخت کے وہ تمام پتے جھڑ گئے جو بوسیدہ و پرانے ہو چکے تھے جبکہ سبز و شاداب پتے اپنی جگہ پر قائم رہے، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اس درخت کی کیا مثال ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس کی مثال اس مومن کی سی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ڈر اور اس کی خشیت سے اس کے بدن پر لرزہ طاری ہوتا ہے تو اس کے گناہ (اسی طرح) جھڑ جاتے ہیں اور اس کی نیکیاں اس کے لیے باقی رہ جاتی ہیں۔“
اس حدیث کو امام بزار نے ایک دوسری سند سے ام کلثوم بنت عباس کے واسطے سے ان کے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، جس میں آپ ﷺ کے ارشادات ان الفاظ تک محدود ہیں: ”جب اللہ عزوجل کے خوف و خشیت سے بندے کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو اس کی خطائیں اس سے اس طرح جھڑ کر گر جاتی ہیں جیسے کسی خشک درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3317
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :3317/1: الحديث بهذا السند، فيه موسى بن محمَّد، وشيخه محمَّد بن عمر، وهما ضعيفان، وفيه، هارون بن أبي الجوزاء، لم أجد من ترجم له، فأتوقف في الحكم عليه.
3317/2: إسناده صحيح، قاله الحافظ في مختصر زوائد البزّار (2/ 467). »
«أخرجه مسند البزار برقم: 1322، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18217، 18218، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7094/2، 7094/1»