المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْخَوْفِ مِنْ اللَّهُ تَعَالَى والبكاء مِنْ خشيته باب: اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی خشیت کے سبب گریہ و زاری کرنے کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرُّومِيُّ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَهَاجَتِ الرِّيحُ فَوَقَعَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ وَرَقٍ نَخِرٍ ، وَبَقِيَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ وَرَقٍ أَخْضَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَثَلُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ؟ " قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ إِذَا اقْشَعَرَّ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ تَعَالَى وَقَعَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ وَبَقِيَتْ لَهُ حَسَنَاتُهُ " .
3317 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ الْعَبَّاسِ ، عَنْ أَبِيهَا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، مُقْتَصِرًا عَلَى قَوْلِهِ : " إِذَا اقْشَعَرَّ جِلْدُ الْعَبْدِ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ تَعَالَى تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ عَنِ الشَّجَرَةِ الْيَابِسَةِ وَرَقُهَا " .سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک تیز ہوا چلی جس کے نتیجے میں درخت کے وہ تمام پتے جھڑ گئے جو بوسیدہ و پرانے ہو چکے تھے جبکہ سبز و شاداب پتے اپنی جگہ پر قائم رہے، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اس درخت کی کیا مثال ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس کی مثال اس مومن کی سی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ڈر اور اس کی خشیت سے اس کے بدن پر لرزہ طاری ہوتا ہے تو اس کے گناہ (اسی طرح) جھڑ جاتے ہیں اور اس کی نیکیاں اس کے لیے باقی رہ جاتی ہیں۔“
اس حدیث کو امام بزار نے ایک دوسری سند سے ام کلثوم بنت عباس کے واسطے سے ان کے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، جس میں آپ ﷺ کے ارشادات ان الفاظ تک محدود ہیں: ”جب اللہ عزوجل کے خوف و خشیت سے بندے کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو اس کی خطائیں اس سے اس طرح جھڑ کر گر جاتی ہیں جیسے کسی خشک درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں۔“