المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْأَمْرِ بالمعروف وَالنَّهْيُ عَنْ المنكر وإن كان ممن لَا يأتمر باب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی ترغیب، اگرچہ کہنے والا خود عمل نہ کرے، کا بیان۔
حدیث نمبر: 3304
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ عَاصِمٍ ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِامْرِئٍ شَهِدَ مَقَامَ حَقٍّ إِلَّا تَكَلَّمَ بِهِ ، فَإِنَّهُ لَنْ يُقَدِّمَ أَجَلَهُ وَلَنْ يَحْرِمَ رِزْقًا هُوَ لَهُ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی ایسے شخص کے لیے یہ ہرگز مناسب نہیں ہے جو حق کے کسی مقام یا معاملے کا گواہ بنے مگر یہ کہ وہ اس حق کو برملا بیان کر دے، کیونکہ حق بات کہنا نہ تو اس کی زندگی کی مقررہ مدت (موت) کو وقت سے پہلے لا سکتا ہے اور نہ ہی اسے اس رزق سے محروم کر سکتا ہے جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے۔“
مسند احمد بن منیع: 3304، اس کی سند میں حسین بن قیس (ابوعلی الرحبی) متروک الحدیث ہونے کی وجہ سے نہایت ضعیف ہے، تاہم دیگر کتبِ حدیث میں اس مفہوم کے شواہد موجود ہیں۔