المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے جواز کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّا نَخْرُجُ فِي كُلِّ عَامٍ ، وَلِي [بِنَاءٌ] فِيهِ صِغَرٌ ، [فَإِنْ] صَلَّيْتُ فِيهِ كَانَتِ الْمَرْأَةُ بِحِذَائِي ، وَإِنْ خَرَجْتُ قَرَرْتُ ، قَالَ : اقْطَعْ بَيْنَكُمَا بِثَوْبٍ ثُمَّ صَلِّ كَيْفَ شِئْتَ .سیدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: ”ہم ہر سال (جہاد یا سفر کی غرض سے) روانہ ہوتے ہیں، وہاں قیام کے لیے میرے پاس ایک مختصر سی پناہ گاہ یا خیمہ ہوتا ہے؛ اب اگر میں اس تنگی کے باوجود اس کے اندر نماز پڑھوں تو میری اہلیہ بالکل میرے پہلو میں میرے برابر کھڑی ہوتی ہے، اور اگر میں (نماز کی ادائیگی کے لیے) باہر نکلوں تو سردی کی شدت سے ٹھٹھر جاتا ہوں۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”تم دونوں اپنے درمیان ایک کپڑے یا چادر کا پردہ حائل کر لیا کرو، پھر تم جس طرح چاہو (سہولت کے ساتھ) نماز ادا کرو۔“
اس روایت کی سند حسن ہے اور اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔