المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ سَتْرِ الْعَوْرَةِ باب: سترِ عورت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ( كَانَ عَامَّةُ مَنْ يُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَ الْعُقَدِ ) . قُلْتُ : وَمَا أَصْحَابُ الْعُقَدِ ؟ قَالَ : ( لَمْ يَكُنْ لِأَحَدِهِمْ إِلَّا ثَوْبٌ كَانَ يَعْقِدُهُ عَلَى عُنُقِهِ ) .سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرنے والے اکثر و بیشتر اصحاب العقد (گرہوں والے) ہوا کرتے تھے۔“ میں نے عرض کی کہ اصحاب العقد سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”ان میں سے کسی کے پاس بھی ایک سے زائد کپڑا نہیں ہوتا تھا جسے وہ (تنگیِ لباس کی وجہ سے) اپنی گردن پر گرہ لگا کر باندھ لیا کرتے تھے۔“
اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں راوی عدی بن الفضل البصری ضعیف ہے، تاہم اس کا بنیادی مفہوم صحیح بخاری (حدیث: 361) کی روایت سے ثابت ہے جس میں تنگیِ لباس کی صورت میں گردن پر چادر باندھ کر نماز پڑھنے کا ذکر موجود ہے۔