المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ المداومة عَلَى العمل باب: نیکی کے کاموں پر ہمیشگی اختیار کرنے اور ان پر استقامت و تسلسل برقرار رکھنے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو فَاخِتَةَ التَّيْمِيُّ ، مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي قَدِ اجْتَهَدَ فِي الْعِبَادَةِ وَأَجْهَدَ نَفْسَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ شِرَّةُ الْإِسْلَامِ ، لِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَارْتَقِبْهُ عِنْدَ فَتْرَتِهِ ، فَإِنْ قَارَبَ فَلَعَلَّ وَإِنْ هَلَكَ فَتَبًّا لَهُ " .ابو فاختہ تیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا عبادت میں حد درجہ محنت و تگ و دو کر رہا ہے اور اس نے (کثرتِ ریاضت سے) اپنی جان کو سخت مشقت میں ڈال دیا ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ اسلام کی ابتدائی تڑپ اور جوش و خروش ہے، اور یقیناً ہر جوش و جذبے کے لیے ایک ٹھہراؤ اور سستی کا دور ہوتا ہے، پس تم اس کے سستی والے دور میں اس کی نگرانی کرو، چنانچہ اگر اس نے (سستی کے دور میں بھی) میانہ روی اختیار کی تو امید ہے کہ وہ فلاح پا جائے گا، لیکن اگر وہ (غلو و انتہا پسندی کی وجہ سے) ہلاک ہو گیا تو اس کے لیے بربادی ہے۔“
اس حدیث کی سند کے راوی ابو فاختہ ثقہ ہیں اور اس مفہوم کی شاہد روایات مسند احمد (6477) اور صحیح ابن حبان (11) میں موجود ہیں۔