المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي التسهيل فِي أمور الدنيا باب: دنیوی امور و معاملات میں آسانی پیدا کرنے اور سہولت پسندی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّمَا الدُّنْيَا مِثْلُ الثَّغَبِ ذَهَبَ صَفْوُهُ ، وَبَقِيَ كَدَرُهُ .
3188 \ 2 - حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ذَهَبَ صَفْوُ الدُّنْيَا فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُ إِلَّا الْكُدْرَةُ ، وَالْمَوْتُ الْيَوْمَ تُحْفَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
3188 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، بِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ دنیا (پہاڑ کی چوٹی پر جمع ہونے والے بارش کے) اس پانی کی مانند ہے جس کا صاف و شفاف حصہ ختم ہو چکا ہو اور اب صرف اس کا گدلا پن اور تلچھٹ ہی باقی رہ گئی ہو۔“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (ایک دوسری سند سے) مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”دنیا کی صفائی اور پاکیزگی رخصت ہو چکی ہے، چنانچہ اب اس میں کدورت اور گدلے پن کے سوا کچھ باقی نہیں بچا، اور آج کے دور میں موت ہر مسلمان کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے۔“
امام حارث نے اپنی سند کے ساتھ ابوجحیفہ سے اسی کے مانند روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے اس میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام (بطورِ راوی) ذکر نہیں کیا۔