المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الغضب باب: غصے کی مذمت اور اس کی برائی کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو ، مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَزَنَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللهُ تَعَالَى عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ كَفَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ عَذَابَهُ ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى اللهِ تَعَالَى قَبِلَ مِنْهُ عُذْرَهُ " .
3144 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
3144 \ 3 - وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، أَنَا عِيسَى بْنُ شُعَيْبٍ الضَّرِيرُ ، أَبُو الْفَضْلِ ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمٍ النُّمَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ نَحْوَهُ .
3144 \ 4 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ بُرْدٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، بِهِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے اپنی زبان کی حفاظت کی (اسے قابو میں رکھا)، اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جس نے اپنے غصے کو روک لیا، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اپنے عذاب کو روک لے گا، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے حضور (اپنے گناہوں کی) معذرت پیش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرما لے گا۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر نے روایت کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی انہی کے واسطے سے اسے نقل کیا ہے۔ مزید برآں، ابو موسیٰ نے عیسیٰ بن شعیب الضریر اور ربیع بن سلیم النمیری کے واسطے سے ابو عمیر بن انس سے، انہوں نے اپنے والد (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ نیز محمد بن مثنیٰ نے عبدالسلام بن ہاشم البزار اور خالد بن برد العجلی کے واسطے سے ان کے والد سے، اور انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔