المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصبر باب: صبر کی ترغیب اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْطَاكِيُّ ، ثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ النَّاسَ الْيَوْمَ كَشَجَرَةٍ ذَاتِ جَنَاءٍ ، وَيُوشِكُ أَنْ يَعُودَ النَّاسُ كَشَجَرَةٍ ذَاتِ شَوْكٍ ، إِنْ نَافَرْتَهُمْ نَافَرُوكَ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُمْ لَمْ يَتْرُكُوكَ ، وَإِنْ هَرَبْتَ مِنْهُمْ طَلَبُوكَ " قَالَ : قُلْتُ : وَكَيْفَ بِالْمَخْرَجِ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُقْرِضُهُمْ مِنْ عِرْضِكَ لِيَوْمِ فَقْرِكَ " .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً لوگ آج کے دور میں ایک ایسے درخت کی مانند ہیں جو پھلوں سے لدا ہوا اور نفع بخش ہے، لیکن عنقریب لوگ ایک ایسی خاردار جھاڑی کی طرح ہو جائیں گے کہ اگر تم ان سے بیزاری اور دوری کا اظہار کرو گے تو وہ تمہارے خلاف نفرت اور تیکھے پن کا برتاؤ کریں گے، اگر تم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں (اپنے شر سے) نہیں چھوڑیں گے، اور اگر تم ان سے بھاگ نکلنے کی کوشش کرو گے تو وہ تمہارے پیچھے پڑ جائیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر ایسی فتنہ پرور صورتحال سے خلاصی اور بچاؤ کی کیا راہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی عزت و آبرو (یعنی ان کی بد زبانی اور اذیت رسانی پر خاموشی اور صبر کو) اللہ کے سپرد کر کے قرض دے دو تاکہ وہ تمہاری انتہائی محتاجی اور فقر کے دن (یعنی روزِ قیامت) تمہارے کام آ سکے۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے ’المعجم الکبیر‘ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں صدقہ بن عبداللہ الدمشقی ضعیف راوی ہے، نیز بقیہ بن ولید مدلس ہیں اور انہوں نے سماع کی صراحت نہیں کی، جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔