المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ الكذب عَلَى رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے ڈرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3111
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ ، ثَنَا جَارِيَةُ بْنُ هَرِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دَارِمٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ الْحُبْرَانِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ ، وَلَهُ صُحْبَةٌ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا أَوْ رَدَّ شَيْئًا أَمَرْتُ بِهِ ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ " .ترجمہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا یا میری کسی ایسی بات کو مسترد کیا جس کا میں نے حکم دیا ہے، تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے۔“
اس روایت کی سند میں عمرو بن مالک اور جاریہ بن ہرم جیسے راویوں کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے، البتہ حدیث کا پہلا حصہ یعنی نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھنے کی وعید دیگر صحیح اور متواتر روایات سے قطعی طور پر ثابت ہے۔