❮
❯
حدیث نمبر: 3109
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، نَبَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَنَا دُجَيْنُ بْنُ ثَابِتٍ الْيَرْبُوعِيُّ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا شَيْخٌ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ جَالِسٌ ، يُقَالُ لَهُ : سَالِمٌ أَوْ أَسْلَمُ ، قَالَ : كُنْتُ أُسَافِرُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَرْجُزُ لَهُ ، فَكَانَ لَا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا لَهُ : لَوْ حَدَّثْتَنَا ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي سَمِعْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
3109 \ 2 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا مُسْلِمٌ ، عَنِ الدُّجَيْنِ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ .
3109 \ 3 - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ وَكِيعٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنِ الدُّجَيْنِ بِهِ .
ترجمہ

سیدنا اسلم مولیٰ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، دُجین بن ثابت الیربوعی بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں منبر کے پہلو میں ایک بزرگ تشریف فرما تھے جنہیں سالم یا اسلم کہا جاتا تھا، انہوں نے بتایا کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سفر کیا کرتا تھا اور ان کے لیے رجزیہ اشعار (حدی خوانی) پڑھا کرتا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ سے (بہت زیادہ) احادیث روایت نہیں کرتے تھے، تو ہم نے ان سے عرض کی کہ کاش آپ ہمیں کچھ احادیث سنائیں! اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا آگ (جہنم) میں بنا لے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز نصر بن علی نے مسلم کے واسطے سے دُجین سے، انہوں نے اسلم مولیٰ عمر سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے اسی مفہوم کی روایت نقل کی ہے، مزید برآں سفیان بن وکیع نے بھی اپنے والد کے طریق سے دُجین سے اسے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3109
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف؛ لضعف الدُجين بن ثابت. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 332، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 259، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3109 / 2، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 380»