المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3087
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا عُبِدَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ فِقْهٍ فِي دِينٍ ، وَلَفَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کی عبادت کسی ایسی چیز کے ساتھ نہیں کی گئی جو دین میں تفقہ (سمجھ بوجھ) حاصل کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو، اور یقیناً ایک فقیہ (دین کی گہری سمجھ رکھنے والا عالم) شیطان پر ایک ہزار (سادہ) عبادت گزاروں سے زیادہ بھاری اور سخت ہے۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں یزید بن عیاض کے ضعف کی وجہ سے محدثین کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے۔