المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا مُجَاشِعُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَأَدْرَكَهُ ، أَعْطَاهُ اللهُ تَعَالَى كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ ، وَمَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَلَمْ يُدْرِكْهُ أَعْطَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ كِفْلًا مِنَ الْأَجْرِ ، فَفَسَّرَهُ فَقَالَ : مَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَأَدْرَكَهُ أَعْطَاهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَجْرَ مَا عَلِمَ وَأَجْرَ مَا عَمِلَ ، وَمَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَلَمْ يُدْرِكْهُ أَعْطَاهُ اللهُ تَعَالَى أَجْرَ مَا عَلِمَ وَسَقَطَ عَنْهُ أَجْرُ مَا لَمْ يَعْلَمْ .سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے علم طلب کیا اور اسے حاصل کر لیا، تو اللہ تعالیٰ اسے اجر کے دو حصے عطا فرمائے گا، اور جس نے علم کی جستجو کی مگر اسے (کما حقہ) حاصل نہ کر سکا، تو اللہ عزوجل اسے اجر کا ایک حصہ عطا فرمائے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جس نے علم کی جستجو کی اور اسے پا لیا، اللہ تبارک و تعالیٰ اسے اس کے علم کا بھی اجر عطا فرمائے گا اور اس پر عمل کرنے کا بھی، اور جس نے علم کی طلب کی مگر اسے پا نہ سکا، تو اللہ تعالیٰ اسے اس علم کا اجر عطا فرمائے گا جو اس نے سیکھ لیا اور جو علم وہ حاصل نہ کر سکا اس کا اجر اس سے ساقط ہو جائے گا۔“
اس روایت کی سند میں یزید بن ربیعہ الدمشقی ضعیف راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے۔