المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3082
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَالِبُ الْعِلْمِ أَوْ صَاحِبُ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”علم کا طلبگار ہو یا صاحبِ علم، کائنات کی ہر چیز اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی (اس کے حق میں) دعائے مغفرت کرتی ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے، لیکن علم کی فضیلت اور طالبِ علم کے لیے مخلوقات کے استغفار کا مضمون دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔