المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الرواية بالمعنى باب: حدیث کو اس کے بعینہٖ الفاظ کے بجائے محض اس کے معنی اور مفہوم کے ساتھ روایت کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ : بَيْنَمَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عِنْدَهُ إِذْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَاةٍ بَيْنَ رَبَضَيْنِ إِذَا أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحَتْهَا وَإِذَا أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحَتْهَا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : لَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّمَا قَالَ بَيْنَ غَنَمَيْنِ فَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ : بَيْنَ رَبَضَيْنِ وَغَنَمَيْنِ وَاحِدٌ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ لَمْ أَقُلْهُ .محمد بن علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس وقت عبید بن عمیر رحمہ اللہ حدیث بیان کر رہے تھے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس تشریف فرما تھے، تو عبید نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”منافق کی مثال اس بکری جیسی ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں یا ٹھکانوں (ربضین) کے درمیان (متحیر) ہو، جب وہ ان کے پاس آتی ہے تو یہ اسے ٹکر مار کر نکال دیتے ہیں اور جب وہ دوسروں کے پاس جاتی ہے تو وہ اسے ٹکر مار دیتے ہیں،“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (لفظی درستگی کرتے ہوئے) فرمایا: ”بات یوں نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ نے «بَيْنَ غَنَمَيْنِ» (دو ریوڑوں کے درمیان) کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے،“ اس پر عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے عرض کیا: ”«بَيْنَ رَبَضَيْنِ» اور «غَنَمَيْنِ» کا معنی و مفہوم تو ایک ہی ہے،“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (الفاظِ نبوی ﷺ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے) فرمایا: ”اگر میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو (لفظ غنمین کے ساتھ) یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں ہرگز یہ بات نہ کہتا۔“
امام ابوداؤد طیالسی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت الفاظِ حدیث کی من وعن نقل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غایت درجے کی احتیاط اور فنی باریک بینی پر دلالت کرتی ہے۔