المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الفتوى بالرأي باب: محض اپنی ذاتی رائے اور قیاس کی بنیاد پر شرعی فتویٰ صادر کرنے کی مذمت و ممانعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعْمَلُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بُرْهَةً بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ تَعْمَلُ بُرْهَةً بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَعْمَلُ بِالرَّأْيِ ، فَإِذَا عَمِلُوا بِالرَّأْيِ فَقَدْ ضَلُّوا وَأَضَلُّوا .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ امت ایک طویل عرصہ تک اللہ عزوجل کی کتاب (قرآن مجید) پر عمل پیرا رہے گی، پھر ایک مدت تک رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ کے مطابق عمل کرے گی، پھر وہ اپنی رائے اور ذاتی افکار پر عمل کرنا شروع کر دے گی، پس جب یہ لوگ اپنی رائے اور قیاس پر عمل کرنے لگیں گے تو یقیناً خود بھی راہِ راست سے بھٹک جائیں گے اور دوسروں کو بھی گمراہی میں مبتلا کر دیں گے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی عثمان بن عبد الرحمن الزہری کو ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے۔