المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ المذاكرة باب: علمی مذاکرے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : تَحَدَّثُوا ; فَالْحَدِيثُ يُذَكِّرُ الْحَدِيثَ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
3061 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَيَقُولُ : تَحَدَّثُوا ; فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ .
3061 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَكْتِبْنَا ، قَالَ : لَنْ أُكْتِبَكُمْ ، خُذُوا عَنِّي كَمَا كُنَّا نَأْخُذُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : تَحَدَّثُوا ; فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُذَكِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”تم آپس میں علمی مذاکرہ اور احادیث کا تذکرہ کیا کرو، کیونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کی یاد دہانی کا ذریعہ بنتی ہے“۔
یہ روایت صحیح اور موقوف ہے۔
ابونضرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، تو وہ فرماتے تھے: ”تم آپس میں علمی گفتگو جاری رکھا کرو، کیونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کو ذہن میں تازہ کرنے کا سبب بنتی ہے“۔
ابونضرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں احادیث لکھوا دیا کریں، تو انہوں نے فرمایا: ”میں تمہیں ہرگز لکھ کر نہیں دوں گا، بلکہ تم مجھ سے زبانی طور پر اسی طرح اخذ کرو جس طرح ہم نبی کریم ﷺ سے احادیث حاصل کیا کرتے تھے“، نیز سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے: ”تم باہم علمی تذکرہ کیا کرو، کیونکہ حدیث کا ایک حصہ دوسرے حصے کی یاد دہانی کا سبب بنتا ہے“۔