المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الدعوى فِي العلم باب: علم کا دعویٰ کرنے کی کراہت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَظْهَرُ الدِّينُ حَتَّى يَتَجَاوَزَ الْبِحَارَ ، وَتُخَاضُ الْبِحَارُ بِالْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِهِمْ أَقْوَامٌ ، يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ ، وَيَقُولُونَ : قَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ مَنْ أَقْرَأُ مِنَّا ؟ وَمَنْ أَفْقَهُ مِنَّا ؟ وَمَنْ أَعْلَمُ مِنَّا ؟ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : هَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ خَيْرٍ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : أُولَئِكَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ .
3051 \ 2 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دینِ اسلام اس قدر غلبہ پائے گا کہ سمندروں کی حدود سے بھی پار نکل جائے گا، اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں گھوڑوں پر سوار ہو کر سمندروں کو عبور کیا جائے گا، پھر ان مخلصین کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن مجید کی تلاوت کریں گے اور از راہِ تکبر کہیں گے: ہم نے قرآن پڑھ لیا ہے، اب بھلا ہم سے بڑا قاری کون ہے؟ ہم سے بڑھ کر فقیہ کون ہے؟ اور ہم سے زیادہ علم والا کون ہے؟“ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت فرمایا: ”کیا ان لوگوں میں کوئی خیر و بھلائی ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، (اے اللہ کے رسول!)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا تعلق تمہی میں سے ہوگا یعنی وہ اسی امت کے لوگ ہوں گے، اور وہی جہنم کا ایندھن بنیں گے۔“
امام اسحاق بن راہویہ نے جعفر بن عون کے واسطے سے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے۔