المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ النَّظَرِ فِي كتب أهل الكتاب باب: اہلِ کتاب کی کتابیں دیکھنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ : أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ حَفْصَةَ ، جَاءَتْ بِكِتَابٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَصَصِ يُوسُفَ ، فَجَعَلَتْ تَقْرَأُهُ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَلَوَّنُ وَجْهُهُ ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنْ أَتَاكُمْ يُوسُفُ فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ .سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں سیدنا یوسف علیہ السلام کے قصص و واقعات پر مشتمل ایک کتاب (تحریر) لے کر آئیں اور اسے پڑھ کر سنانے لگیں، تو (اس دوران) نبی کریم ﷺ کے روئے مبارک کا رنگ متغیر ہونے لگا اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر تمہارے پاس خود یوسف (علیہ السلام) تشریف لے آئیں اور تم ان کی اتباع کرنے لگو اور مجھے چھوڑ دو، تو تم یقیناً راہِ راست سے بھٹک جاؤ گے۔“
تخریج: اس روایت کو امام عبدالرزاق نے اپنی المصنف (10164) میں روایت کیا ہے، یہ سند امام زہری کی مراسیل میں سے ہے۔