❮
❯
حدیث نمبر: 3039
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَكُنْتُ أَكْتُبُ بَعْضَ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أُفَارِقَهُ ، جِئْتُ بِالْكُتُبِ ، فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : هَذَا سَمِعْتُهُ مِنْكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
ترجمہ

بشیر بن نہیک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا کرتا تھا اور ان سے جو کچھ سنتا تھا اسے لکھ لیا کرتا تھا، پھر جب میں نے ان سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو وہ تمام تحریریں لے کر ان کے پاس حاضر ہوا اور انہیں ان کے سامنے پڑھا، پھر میں نے دریافت کیا: ”کیا یہ سب میں نے آپ ہی سے سنا ہے؟“ تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“
اسے امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3039
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا السند ضعيف من أجل السكن بن نافع، ولكن تابعه وكيع عن عمران. »
«أخرجه مسند الدارمي برقم: 511، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 26962، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 7137»