❮
❯
حدیث نمبر: 3038
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَصَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا أَكْثَرْنَا عَلَى أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْحَدِيثِ أَتَانَا بِمَخَالِي لَهُ ، فَأَلْقَاهَا إِلَيْنَا ، فَقَالَ : هَذِهِ أَحَادِيثُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَتَبْتُهَا ، وَعَرَفْتُهَا .
ترجمہ

یزید الرقاشی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے احادیث سننے کا بہت زیادہ اصرار اور تقاضا کرتے تو وہ اپنے پاس موجود (لکھے ہوئے علمی ذخیرے کے) تھیلے لاتے اور انہیں ہماری طرف ڈال دیتے، پھر وہ فرماتے: ”یہ وہ تمام احادیث ہیں جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست سماعت کیں، پھر انہیں قلمبند کیا اور (آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پیش کر کے) ان کی پہچان و تصدیق کر لی تھی۔“
اس حدیث کی سند میں موجود راوی یزید بن ابان الرقاشی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، تاہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کتابتِ حدیث کے حوالے سے دیگر شواہد بھی مروی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3038
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا السند ضعيف لأسباب منها: أن الحديث مداره على عتبة وهو ضعيف فما انفرد به فمنكر. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 6513»