المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ ، فَقَالَ مُوسَى لِآدَمَ : أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ ، فَأَهْلَكْتَنَا ، وَأَغْوَيْتَنَا ، وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللهُ مِنْ هَذَا ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللهُ بِكَلِمَاتِهِ ، وَرِسَالَاتِهِ ، وَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قَدَّرَهُ اللهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى .
2970 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى .
2970 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَقِيَ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ ، فَقَالَ مُوسَى : يَا آدَمُ فَذَكَرَهُ ، فَزَادَ فِيهِ : وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ ، وَلَمْ يَقُلْ : فَأَهْلَكْتَنَا ، وَأَغْوَيْتَنَا ، قَالَ : فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ ، وَأَخْرَجْتَ ذُرِّيَّتَكَ مِنَ الْجَنَّةِ وَزَادَ : وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا ، وَآتَاكَ التَّوْرَاةَ ، فَبِكَمْ تَجِدُ الذَّنْبَ الَّذِي عَمِلْتُ مَكْتُوبًا عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أَعْمَلَهُ ؟ قَالَ : بِأَرْبَعِينَ عَامًا وَالْبَاقِي نَحْوُهُ .
( 115 ) وَحَدِيثُ جَرِيرٍ فِي الْعَزْلِ ، سَبَقَ فِي النِّكَاحِ ، وَفِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا آدم اور سیدنا موسیٰ علیہما السلام نے باہم بحث و تکرار کی، تو موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: آپ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا، اپنی طرف سے خاص روح پھونکی اور آپ کو اپنی جنت میں سکونت عطا کی، پھر (آپ کی ایک لغزش کی وجہ سے) ہمیں مشقت و آزمائش میں ڈال دیا اور ہمیں جنت سے نکلوا دیا، اور موسیٰ علیہ السلام نے اسی طرح کی مزید باتیں بھی کیں جو اللہ نے چاہیں۔ اس پر آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا: آپ وہ جلیل القدر رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا، تو کیا آپ مجھے ایسے معاملے پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے بھی پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس آدم علیہ السلام بحث میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے، پس آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔““
عبد بن حمید نے اسے مرفوعاً روایت کیا، البتہ اس کے الفاظ یہ ہیں: ”کیا آپ مجھے اس کام پر ملامت کرتے ہیں جو میری پیدائش سے بھی پہلے میرے حق میں مقدر کیا جا چکا تھا؟“ پھر آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔
حارث کی روایت میں نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ: ”آدم اور موسیٰ علیہما السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے آدم! پھر راوی نے مذکورہ بالا واقعہ بیان کیا اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ: ”اللہ نے آپ کے سامنے فرشتوں کو سجدہ ریز کیا“، البتہ اس روایت میں یہ الفاظ نہیں کہ ”آپ نے ہمیں ہلاک کیا اور بہکا دیا“ بلکہ یہ ہے کہ: ”آپ نے جو کرنا تھا وہ کیا اور اپنی اولاد کو جنت سے نکلوا دیا“، نیز اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ (آدم علیہ السلام نے پوچھا:) ”اللہ نے آپ کو راز و نیاز کے لیے اپنا قربِ خاص عطا کیا اور آپ کو تورات عطا کی، تو آپ نے اس گناہ کو، جو میں نے کیا، اسے میرے عمل کرنے سے کتنا عرصہ قبل (تورات میں) لکھا ہوا پایا؟“ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: ”چالیس سال قبل“، اور باقی حدیث اسی طرح ہے۔
جریر کی عزل (مانع حمل تدبیر) سے متعلق حدیث کتاب النکاح اور امہات الاولاد کے بیان میں پہلے گزر چکی ہے۔