المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2969
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ فَيَكْمُلُ إِيمَانُهُ ، حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، وَمُرِّهِ ، وَحُلْوِهِ ، وَضَرِّهِ ، وَنَفْعِهِ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ضَعِيفٌ .ترجمہ
محمد بن المنکدر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک (حقیقی معنوں میں) مومن نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کا ایمان کامل ہو سکتا ہے، جب تک کہ وہ تقدیر پر، اس کی بھلائی اور برائی، اس کی تلخی اور شیرینی، اور اس کے نقصان اور نفع (سمیت ہر پہلو) پر ایمان نہ لے آئے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور اس کا راوی محمد بن ابی حمید ضعیف ہے۔