المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تفسير الكبائر باب: کبیرہ گناہوں کی تشریح کا بیان۔
حدیث نمبر: 2932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْبُدُ اللهَ تَعَالَى لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قِيلَ : وَمَا الْكَبَائِرُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْإِشْرَاكُ بِاللهِ تَعَالَى ، وَقَتْلُ النَّفْسِ .
صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسا کوئی بھی بندہ نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس شان سے بندگی کرے کہ اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے، پابندی سے نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب برتے، تو وہ یقیناً جنت میں داخل ہوگا۔“ عرض کیا گیا کہ کبائر یعنی بڑے گناہ کیا ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔