المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ علامات الإيمان باب: ایمان کی علامات و نشانات کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : سَمِعْتُ صِلَةَ بْنَ زُفَرَ ، يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ : وَالْإِسْلَامُ سَهْمٌ ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ ، وَالْحَجُّ سَهْمٌ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ سَهْمٌ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى سَهْمٌ ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ .
2920 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا مَوْقُوفًا
( م ) وَقَالَ الْبَزَّارُ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا .
وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَمْ يُسْنِدْهُ إِلَّا يَزِيدُ ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ : الصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ .سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اسلام کے آٹھ حصے ہیں: اسلام (یعنی کلمہ شہادت کا اقرار و فرماں برداری) ایک حصہ ہے، نماز ایک حصہ ہے، زکاۃ ایک حصہ ہے، حج بیت اللہ ایک حصہ ہے، رمضان المبارک کے روزے رکھنا ایک حصہ ہے، نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے، برائی سے روکنا ایک حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ایک حصہ ہے؛ اور وہ شخص یقیناً نامراد و ناکام رہا جس کا ان میں سے کوئی بھی حصہ نہ ہو۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد الطیالسی اور امام بزار نے روایت کیا ہے۔ امام بزار نے اسے محمد بن جعفر کے طریق سے موقوفاً (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول) بیان کیا ہے، جبکہ یعقوب بن اسحاق الحضرمی کے طریق سے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً (فرمانِ نبوی ﷺ کے طور پر) بھی نقل کیا ہے۔ امام بزار فرماتے ہیں کہ یزید بن عطا کے علاوہ کسی راوی نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا، جبکہ امام دارقطنی اور دیگر جید ائمہِ حدیث کے نزدیک درست بات یہی ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔