المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا باب: ان اوقات کا بیان جن میں نماز ادا کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔
[ وَقَالَ] إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : انْصَرَفْنَا لِجِنَازَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَعَلَى النَّاسِ الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، فَأَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَامَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَصَرَخَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : لَا تُصَلُّوا عَلَى جَنَائِزِكُمْ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ ، فَجَلَسَ الْأَمِيرُ وَالنَّاسُ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، مَوْقُوفٌ ، وَلِمَالِكٍ فِي الْمُوَطَّأِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نَحْوَهُ .محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ ہم نمازِ فجر سے فارغ ہو کر سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے جنازے کے لیے نکلے، اس وقت لوگوں پر (مدینہ کا گورنر) ولید بن عتبہ حاکم مقرر تھا، اس نے نمازِ جنازہ پڑھانے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور اپنی پوری قوت سے بلند آواز میں پکار کر فرمایا: ”تم اپنے جنازوں کی نماز اس وقت تک ادا نہ کرو جب تک کہ سورج (طلوع ہو کر) بلند نہ ہو جائے“، چنانچہ امیر اور دیگر تمام لوگ (انتظار میں) بیٹھ گئے۔
یہ سند حسن اور موقوف ہے، نیز امام مالک نے موطا میں ایک دوسری سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کے مانند روایت نقل کی ہے۔