المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ إثبات الإيمان لِمَنْ شهد الشهادتين وعمل صالحا باب: شہادتین اور نیک عمل کے ذریعے ایمان ثابت ہونے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ بْنُ عَمِيرَةَ السَّكْسَكِيُّ ، وَكَانَ تِلْمِيذًا لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَقُبِضَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَحِقَ يَزِيدُ بِالْكُوفَةِ ، فَأَتَى مَجْلِسَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَيْسَ ثَمَّةَ ، فَجَعَلُوا يَتَذَاكَرُونَ الْإِيمَانَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ شَهِدْتُ أَنِّي مُؤْمِنٌ لَشَهِدْتُ أَنِّي فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ يَزِيدُ : فَأَشْهَدُ أَنِّي مُؤْمِنٌ ، وَلَا أَشْهَدُ أَنِّي فِي الْجَنَّةِ ، إِذْ جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَزِيدَ : أَكَذَاكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمِنْ أَيْنَ ذَاكَ ؟ قَالَ يَزِيدُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا فَمِنْ أَيِّ هَؤُلَاءِ أَنْتَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ : مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا قَالَ : نَعَمْ حَقًّا ، ثُمَّ قَالَ لِيَزِيدَ : آللهِ ، أَكُنْتَ تِلْمِيذًا لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ .
قَالَ أَصْحَابُهُ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلهِ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلهِ حَنِيفًا .معبد جہنی، یزید بن عمیرہ سکسکی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے، راوی نے حدیث کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی اور یزید کوفہ چلے آئے۔ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر ہوئے مگر وہ وہاں موجود نہیں تھے، تو لوگ آپس میں ایمان کے متعلق تبادلہ خیال کرنے لگے۔ ان میں سے بعض نے کہا: ”اگر میں اس بات کی گواہی دوں کہ میں مومن ہوں تو میں اس بات کی بھی گواہی دے دوں کہ میں جنتی ہوں۔“ یزید نے کہا: ”میں اس بات کی گواہی تو دیتا ہوں کہ میں مومن ہوں لیکن اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ میں جنتی ہوں۔“ اسی دوران سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہیں اس معاملے کی خبر دی گئی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یزید سے دریافت فرمایا: ”کیا ایسا ہی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ آپ نے پوچھا: ”تمہیں یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی؟“ یزید نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾ [سورة الحج: 17] یعنی ’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور وہ جنہوں نے شرک کیا۔‘ تو اے ابوعبدالرحمن! آپ ان میں سے کس گروہ میں شامل ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے۔“ یزید نے کہا: ”جی ہاں، یہ برحق ہے۔“ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یزید سے پوچھا: «آللهِ» ”کیا اللہ کی قسم! تم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک معاذ ایک مقتدا (پیشوا)، اللہ کے نہایت فرمانبردار اور یکسو (حنیف) تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔“
آپ کے ساتھیوں نے عرض کیا: ”(قرآن میں تو یہ ہے کہ) بے شک ابراہیم علیہ السلام اللہ کے لیے ایک مقتدا اور نہایت فرمانبردار تھے ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ﴾ [سورة النحل: 120]۔“ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے (جواباً) فرمایا: ”بے شک معاذ رضی اللہ عنہ بھی اللہ کے لیے ایک مقتدا، نہایت فرمانبردار اور یکسو (حنیف) تھے۔“