❮
❯
حدیث نمبر: 2891
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ الْحُدَّانِيُّ عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : أَقْبَلَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ : إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ فَهَلْ تُغْفَرُ لِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَسْتَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَدْ غُفِرَتْ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ .
ترجمہ

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک معمر بزرگ اپنی لاٹھی کے سہارے ٹیک لگاتے ہوئے آئے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے روبرو کھڑے ہو گئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! بے شک مجھ سے بہت سی عہد شکنیاں اور بدکاریاں سرزد ہوئی ہیں، تو کیا میری مغفرت ہو سکتی ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر یقیناً تمہاری تمام عہد شکنیاں اور تمام بدکاریاں معاف کر دی گئی ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2891
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 18939، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 77، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 28/1»