المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يعطاه المؤمن بَعْدَ موته باب: مومن کو موت کے بعد عطا ہونے والی چیزوں کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى وَكَّلَ بِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مَلَكَيْنِ يَكْتُبَانِ عَمَلَهُ ، فَإِذَا قَبَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ ، قَالَا : يَا رَبِّ ، وَكَّلْتَنَا بِعَبْدِكَ الْمُؤْمِنِ نَكْتُبُ عَمَلَهُ ، وَقَدْ قَبَضْتَهُ إِلَيْكَ ، فَأْذَنْ لَنَا أَنْ نَصْعَدَ إِلَى السَّمَاءِ ، قَالَ جَلَّ وَعَلَا : سَمَائِي مَمْلُوءَةٌ مِنْ مَلَائِكَتِي يَسْجُدُونِي ، وَقَالَا : فَأْذَنْ لَنَا أَنْ نَسْكُنَ الْأَرْضَ ، قَالَ عَزَّ وَجَلَّ : أَرْضِي مَمْلُوءَةٌ مِنْ خَلْقِي يَسْجُدُونِي ، وَلَكِنْ قُومَا عَلَى قَبْرِ عَبْدِي ، فَسَبِّحَانِي ، وَهَلِّلَانِي ، وَكَبِّرَانِي ، وَحَمِّدَانِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَاكْتُبَاهُ لِعَبْدِي .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندے پر دو فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو اس کے اعمال لکھتے ہیں، پس جب اللہ عزوجل اپنے اس مومن بندے کی روح قبض فرما لیتا ہے تو وہ دونوں عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں اپنے اس مومن بندے پر متعین کیا تھا کہ ہم اس کے اعمال درج کریں، اور اب تو نے اسے اپنے پاس بلا لیا ہے، لہٰذا ہمیں اجازت عطا فرما کہ ہم آسمان کی طرف صعود کر جائیں، اللہ جل وعلا فرماتا ہے: میرا آسمان تو میرے ان فرشتوں سے لبریز ہے جو میرے حضور سجدہ ریز رہتے ہیں، پھر وہ دونوں عرض کرتے ہیں: تو ہمیں زمین میں بسنے کی اجازت عطا فرما، اللہ عزوجل فرماتا ہے: میری زمین بھی میری ان مخلوقات سے بھری پڑی ہے جو میرا سجدہ کرتی ہیں، بلکہ تم دونوں میرے بندے کی قبر پر قیام کرو، پس تم دونوں وہاں قیامت کے دن تک میری «سُبْحَانَ اللّٰہِ» ”تسبیح“، «لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ» ”تہلیل“، «اَللّٰہُ أَکْبَرُ» ”تکبیر“ اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» ”حمد و ثنا“ بیان کرتے رہو اور اس تمام ذکر کا ثواب میرے بندے کے حق میں لکھتے رہو۔“
مسند ابی یعلی: 4083، اس کی سند میں ہیشم بن جماز ضعیف راوی ہے۔