المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تعريف الإسلام والإيمان باب: اسلام اور ایمان کی تعریف و حقیقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَسْعَدَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ : التَّقْوَى هَاهُنَا ، التَّقْوَى هَاهُنَا .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام ایک علانیہ اور ظاہری حقیقت ہے جبکہ ایمان کا مقام انسان کا دل ہے“، پھر آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اپنے سینہ اقدس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے“۔
تخریج: اسے امام احمد نے المسند (12410) اور امام ابویعلیٰ نے (3042) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں علی بن مسعدہ باہلی کے تفرد پر محدثین نے کلام کیا ہے، البتہ اس حدیث کا بنیادی مفہوم صحیح مسلم کی دیگر مستند روایات سے ثابت ہے۔