المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الرؤيا باب: خواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2845
وَقَالَ إسحاق: أخبرنا أبو عامر الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا سُلَيْمَانُ وهو ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: قَالَتْ صَفِيَّةُ حَيْثُ كَانَتْ فِي أَهْلِهَا: رَأَيْتُ كَأَنِّي وَهَذَا الَّذِي أَرْسَلَهُ اللَّهُ وَمَلَكٌ يُسَيِّرُنَا بِجَنَاحِهِ فَرَدُّوا عَلَيْهَا رُؤْيَاهَا وَقَالُوا لَهَا قَوْلًا شَدِيدًا.ترجمہ
حمید بن ہلال رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے، جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس تھیں، کہا: میں نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا میں اور یہ (ہستی) جنہیں اللہ نے (رسول بنا کر) بھیجا ہے، (ساتھ ہیں) اور ایک فرشتہ ہمیں اپنے پروں پر لیے جا رہا ہے۔ تو ان کے گھر والوں نے ان کا خواب رد کر دیا اور انہیں سخت باتیں کہیں۔