❮
❯
حدیث نمبر: 2844
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الرُّؤْيَا عَلَى ثَلَاثِ مَنَازِلَ : فَمِنْهَا مَا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ ، وَلَيْسَتْ بِشَيْءٍ ، وَمِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، وَلْيَبْصُقْ عَلَى يَسَارِهِ ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَمِنْهَا بُشْرَى مِنَ اللهِ ، وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى ذِي رَأْيٍ نَاصِحٍ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا ، وَلْيُأَوِّلْ خَيْرًا .
فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَوْ كَانَتْ حَصَاةً وَاحِدَةً مِنْ عَدَدِ الْحَصَى ، لَكَانَ كَثِيرًا .
2844 \ 2 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا ، فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى ذِي نَاصِحٍ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا ، وَلْيَتَأَوَّلْ خَيْرًا .
قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، وَلَيْسَ هُوَ فِي الْمُجْتَبَى ، وَأَخْرَجَهُ الشَّيْخَانِ ، وَغَيْرُهُمَا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَالزُّهْرِيِّ ، وَعَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، وَيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بِأَصْلِ الْحَدِيثِ ، وَفِي هَذَا السِّيَاقِ زِيَادَةٌ لَيْسَتْ عِنْدَهُمْ ، وَلَا عِنْدَهُمْ حَدِيثُ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
2845 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : قَالَتْ صَفِيَّةُ حَيْثُ كَانَتْ فِي أَهْلِهَا : رَأَيْتُ كَأَنِّي وَهَذَا الَّذِي أَرْسَلَهُ اللهُ ، وَمَلَكٌ يُسَيِّرُنَا بِجَنَاحِهِ فَرَدُّوا عَلَيْهَا رُؤْيَاهَا ، وَقَالُوا لَهَا قَوْلًا شَدِيدًا .
ترجمہ

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”خواب تین مراتب (اقسام) کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو محض انسانی نفس کے خیالات ہوتے ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، ایک وہ جو شیطان کی جانب سے (وسوسہ) ہوتے ہیں، پس جب کوئی شخص ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ «أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں“ پڑھ کر اللہ کی پناہ مانگے اور اپنی بائیں جانب (ہلکا سا) تھوک دے، کیونکہ اس عمل کے بعد وہ خواب اسے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، اور ایک وہ جو اللہ کی طرف سے بشارت (خوشخبری) پر مبنی ہوتے ہیں؛ اور صاحبِ ایمان کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے، لہٰذا وہ اپنے خواب کو صرف کسی صاحبِ بصیرت اور مخلص خیر خواہ کے سامنے ہی پیش کرے، اور (ایسے مشیر کو) چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے اور خیر ہی کی تعبیر بیان کرے“۔
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے (اس کی فضیلت کے تناظر میں) کہا: ”اگر یہ (نبوت کا حصہ) کنکریوں کی کثیر تعداد میں سے محض ایک کنکری کے برابر بھی ہوتا تب بھی یہ بہت زیادہ تھا“۔
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے تو اسے کسی ہمدرد و خیر خواہ کے سامنے پیش کرے، پس وہ خیر کی بات کہے اور اس کی تعبیر بھی خیر و بھلائی ہی کے ساتھ کرے“۔
(محدث کا قول ہے کہ) اسے امام نسائی نے ابن اسحاق کی روایت سے نقل کیا ہے مگر یہ ان کی کتاب ’المجتبیٰ‘ میں شامل نہیں، جبکہ امام بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے اسے یحییٰ بن سعید انصاری، محمد بن عمرو، امام زہری اور دیگر ائمہ سے ابوسلمہ کے واسطے سے اصلِ حدیث کے طور پر روایت کیا ہے، البتہ اس سیاق میں ایسی اضافی باتیں موجود ہیں جو ان کے ہاں نہیں ملتیں، اور نہ ہی ان کے ہاں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا اثر موجود ہے۔
2845 - حمید بن ہلال رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اس وقت جب وہ اپنے گھر والوں میں مقیم تھیں، اپنا خواب بیان کرتے ہوئے کہا: ”میں نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا میں اور یہ شخصیت جنہیں اللہ نے (رسول بنا کر) مبعوث فرمایا ہے (یعنی نبی کریم ﷺ) ساتھ ہیں، اور ایک فرشتہ اپنے بازو (پر) سے ہمیں لے کر چل رہا ہے“، تو ان کے گھر والوں نے ان کے اس خواب کو (بُرا قرار دے کر) مسترد کر دیا اور ان کے ساتھ سخت کلامی کی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2844
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 6587، 6614، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 2263، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 2270، 2280، 2291، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 5019، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3894، 3906، 3917، وأخرجه مسند أحمد برقم: 10212، وأخرجه موطأ مالك برقم: 1781، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2143، 2144، 2160، وأخرجه فتح الباري برقم: 5746، 6582، 6583، 6585، 6592، 6614، 6635، 6652، وأخرجه مسند البزار برقم: 1298، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 8235، 8237، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8180، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 395، 959، 1256، 2078، 3764، 5808، 7271، 8001، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 867، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 9816، وأخرجه شرح السنة برقم: 3278»