المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الأدب فِي الجلوس والنوم باب: بیٹھنے اور سونے کے آداب کا بیان۔
قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ فِي طَرِيقٍ ، فَقَالَ : إِيَّاكُمْ وَالسَّبِيلَ ، فَإِنَّهَا سَبِيلُ النَّارِ وَالشَّيْطَانِ ، ثُمَّ مَضَى ، حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا عَزْمَةٌ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : إِلَّا أَنْ تُؤَدُّوا حَقَّ الطَّرِيقِ ، قَالُوا : وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ تَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَتَهْدُوا الضَّالَّ ، وَتَرُدُّوا السَّلَامَ .یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ راستے میں لگی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم راستے (پر بیٹھنے) سے بچو، کیونکہ یہ آگ اور شیطان کا راستہ ہے۔“ پھر آپ ﷺ آگے تشریف لے گئے، یہاں تک کہ صحابہ نے یہ گمان کیا کہ آپ ﷺ کا یہ فرمانا ایک قطعی اور لازمی حکم ہے، پھر آپ ﷺ دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا: ”مگر یہ کہ تم راستے کا حق ادا کرو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنی نگاہیں نیچی رکھنا، راستہ بھول جانے والے کی رہنمائی کرنا اور سلام کا جواب دینا۔“
اس روایت کی سند میں ایک راوی غیر متعین (مبہم) ہے، البتہ اس کا متن دیگر معتبر و صحیح احادیث کے شواہد کی بنا پر درست ہے۔