❮
❯
حدیث نمبر: 2801
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ أَمَةً لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَهَا اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ الْعَجَمِ ، فَسَمَّاهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَمِيلَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : بَيْنِي وَبَيْنَكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا : أَنْتِ جَمِيلَةُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : خُذِيهَا عَلَى رَغْمِ أَنْفِكِ .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی جس کا نام عجمیوں (غیر عربوں) کے ناموں جیسا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا نام تبدیل کر کے ”جمیلہ“ رکھ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (نام کی تبدیلی پر لونڈی کی ہچکچاہٹ دیکھ کر) اس سے فرمایا: ”میرے اور تمہارے درمیان (اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے) نبی کریم ﷺ موجود ہیں“، چنانچہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اس لونڈی کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا: ”تم جمیلہ ہی ہو“، (نبی کریم ﷺ کی جانب سے توثیق ہو جانے کے بعد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اب اپنی ناپسندیدگی کے باوجود اس نام کو قبول کر لو۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی عمر العدنی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2801
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسنادہ صحیح »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»