المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَكُونُ حَسَنَ الْعَقْلِ كَثِيرَ الذُّنُوبِ ، قَالَ : مَا مِنْ آدَمِيٍّ ، إِلَّا وَلَهُ خَطَايَا وَذُنُوبٌ يَقْتَرِفُهَا ، فَمَنْ كَانَتْ سَجِيَّتُهُ الْعَقْلَ ، وَغَرِيزَتُهُ الْيَقِينَ ، لَمْ تَضُرَّهُ الذُّنُوبُ . قِيلَ : وَكَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِأَنَّهُ كُلَّمَا أَخْطَأَ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ يَتَدَارَكَ ذَلِكَ بِتَوْبَةٍ وَنَدَامَةٍ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ ، فَيَمْحُو ذَلِكَ ذُنُوبَهُ ، وَيَبْقَى لَهُ فَضْلٌ يَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک ایسا شخص جو عمدہ عقل و فہم کا مالک ہو لیکن اس کے گناہ بہت زیادہ ہوں (اس کا کیا انجام ہوگا)؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آدم کی اولاد میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس سے خطائیں اور گناہ سرزد نہ ہوتے ہوں، لیکن جس کی جبلت عقل ہو اور جس کی سرشت میں یقین رچا بسا ہو، اسے گناہ (ابدی طور پر) نقصان نہیں پہنچاتے (یعنی وہ گناہوں پر اصرار نہیں کرتا)۔“ عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کس طرح ممکن ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لیے کہ وہ جب بھی کوئی خطا کرتا ہے تو بغیر کسی تاخیر کے توبہ اور اپنے اس فعل پر ندامت کے ذریعے اس کی تلافی کر لیتا ہے، پس وہ توبہ اس کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور اس کے پاس نیکیوں کی اتنی فضیلت اور زیادتی باقی رہ جاتی ہے جس کے سبب وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔“
اس حدیث کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔