❮
❯
حدیث نمبر: 2771
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، اعْقِلُوا عَنْ رَبِّكُمْ ، وَتَوَاضَعُوا بِالْعَقْلِ بِمَا أُمِرْتُمْ بِهِ ، وَمَا نُهِيتُمْ عَنْهُ ، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ يُحَذِّرُكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْعَاقِلَ مَنْ أَطَاعَ اللهَ تَعَالَى ، وَإِنْ كَانَ ذَمِيمَ الْمَنْظَرِ ، حَقِيرَ الْخَطَرِ ، دَنِيءَ الْمَنْزِلَةِ ، رَثَّ الْهَيْئَةِ ، وَإِنَّ الْجَاهِلَ مَنْ عَصَى اللهَ ، وَإِنْ كَانَ جَمِيلَ الْمَنْظَرِ ، شَرِيفَ الْمَنْزِلَةِ ، حَسَنَ الْهَيْئَةِ ، فَصِيحًا نَطُوقًا ، وَالْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ أَعْقَلُ عَنِ اللهِ تَعَالَى مِمَّنْ عَصَاهُ ، وَلَا تَفْتَرُوا بِتَعْظِيمِ أَهْلِ الدُّنْيَا إِيَّاكُمْ ، فَإِنَّكُمْ غَدًا مِنَ الْخَاسِرِينَ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی معرفت حاصل کرنے کے لیے عقل و دانش سے کام لو، اور جن امور کا تمہیں حکم دیا گیا ہے یا جن سے منع کیا گیا ہے ان کے معاملے میں عقل کے تقاضوں کے مطابق عاجزی اختیار کرو، اور جان لو کہ عقل تمہیں تمہارے رب کے حضور (نافرمانی سے) ڈراتی ہے، اور خوب سمجھ لو کہ حقیقت میں عقل مند وہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اگرچہ وہ دیکھنے میں بدصورت ہو، رتبے میں معمولی ہو، کم تر منزلت والا ہو اور پراگندہ حال ہی کیوں نہ ہو، اور یقیناً جاہل وہ ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی، اگرچہ وہ دیکھنے میں خوبصورت ہو، بلند منصب والا ہو، عمدہ ظاہری حالت والا اور نہایت فصیح و بلیغ گفتگو کرنے والا ہو، اور یاد رکھو کہ بندر اور سور بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت کے معاملے میں اس شخص سے زیادہ عقل رکھتے ہیں جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، اور خبردار! اہل دنیا کی جانب سے اپنی تعظیم و توقیر کیے جانے پر دھوکے میں نہ آ جانا، ورنہ کل قیامت کے دن تم خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے۔“
اس روایت کی سند سخت ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) ہے، اس کا راوی داود بن المحبر کذاب (جھوٹا) ہے اور یہ متن کتاب العقل کی من گھڑت روایات میں سے ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2771
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»