المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، عَنْ غَالِبٍ ، عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ : لِكُلِّ شَيْءٍ آلَةٌ وَعُدَّةٌ ، وَآلَةُ الْمُؤْمِنِ وَعُدَّتُهُ الْعَقْلُ ، وَدِعَامَةُ الْمُؤْمِنِ الْعَقْلُ ، وَلِكُلِّ شَيْءٍ غَايَةٌ ، وَغَايَةُ الْعِبَادَةِ الْعَقْلُ ، وَلِكُلِّ قَوْمٍ رَاعٍ ، وَرَاعِي الْعَابِدِينَ الْعَقْلُ ، وَلِكُلِّ تَاجِرٍ بِضَاعَةٌ ، وَبِضَاعَةُ الْمُجْتَهِدِينَ الْعَقْلُ ، وَلِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ قَيِّمٌ ، وَقَيِّمُ بُيُوتِ الصِّدِّيقِينَ الْعَقْلُ ، وَلِكُلِّ خَرَابٍ عِمَارَةٌ ، وَعِمَارَةُ الْآخِرَةِ الْعَقْلُ ، وَلِكُلِّ أَمْرٍ عَقِبٌ يُنْسَبُ إِلَيْهِ وَيُذْكَرُ بِهِ ، وَعَقِبُ الصِّدِّيقِينَ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِمْ ، وَيُذْكَرُونَ بِهِ الْعَقْلُ ، وَلِكُلِّ شَعْبٍ فُسْطَاطٌ يَلْجَؤُونَ إِلَيْهِ ، وَفُسْطَاطُ الْمُؤْمِنِينَ الْعَقْلُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی آلہ اور تیاری کا سامان ہوتا ہے، اور مؤمن کا حقیقی آلہ اور زادِ راہ «الْعَقْلُ» یعنی عقل و دانش ہے، اور مؤمن کا اصل ستون اور سہارا بھی عقل ہی ہے۔ ہر شے کی ایک غایت اور آخری حد ہوتی ہے، اور بندگی و عبادت کی انتہا عقل ہے۔ ہر قوم کا ایک نگران اور محافظ ہوتا ہے، اور عبادت گزاروں کا محافظ عقل ہے۔ ہر تاجر کے لیے کوئی نہ کوئی پونجی اور تجارتی سرمایہ ہوتا ہے، اور دین کی راہ میں محنت و مشقت کرنے والوں کا اصل سرمایہ عقل ہے۔ ہر گھرانے کا ایک منتظم اور سربراہ ہوتا ہے، اور صدیقین کے گھروں کا سربراہ عقل ہے۔ ہر ویرانی کی ایک آبادی اور تعمیر ہوتی ہے، اور آخرت کی حقیقی تعمیر و آبادی عقل (کے درست استعمال) میں ہے۔ ہر معاملے کی ایک یادگار اور انجام ہوتا ہے جس کی طرف اسے منسوب کیا جاتا اور جس کے ذریعے اسے یاد کیا جاتا ہے، اور صدیقین کی وہ یادگار جس کی طرف انہیں منسوب کیا جاتا ہے اور جس سے ان کا تذکرہ ہوتا ہے، وہ عقل ہے۔ ہر گروہ اور جماعت کا ایک مرکزی خیمہ اور جائے پناہ ہوتی ہے جہاں وہ پناہ لیتے ہیں، اور اہل ایمان کی اصل پناہ گاہ عقل ہے“۔
اس روایت کو امام ابن ابی الدنیا نے ’کتاب العقل‘ (رقم: 24) میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں میسرہ بن عبد ربہ نامی راوی کذاب اور من گھڑت روایات گھڑنے والا ہے، جس کی وجہ سے محدثین نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔