❮
❯
حدیث نمبر: 2768
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بِأَيِّ شَيْءٍ يَتَفَاضَلُ النَّاسُ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِالْعَقْلِ ، قُلْتُ : فَفِي الْآخِرَةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِالْعَقْلِ ، قَالَتْ : قُلْتُ : إِنَّمَا يُجْزَوْنَ بِأَعْمَالِهِمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَهَلْ عَمِلُوا إِلَّا بِقَدْرِ مَا أَعْطَاهُمُ اللهُ تَعَالَى مِنَ الْعَقْلِ ، فَبِقَدْرِ مَا أُعْطُوا مِنَ الْعَقْلِ كَانَتْ أَعْمَالُهُمْ ، وَبِقَدْرِ مَا عَمِلُوا يُجْزَوْنَ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! دنیا میں لوگ کس بنیاد پر ایک دوسرے پر فضیلت و برتری پاتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عقل کی وجہ سے۔“ میں نے عرض کیا: ”اور آخرت میں (فضیلت کا معیار کیا ہوگا)؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہاں بھی عقل ہی کی بنیاد پر ہو گی۔“ میں نے عرض کیا: ”انہیں تو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا (تو عقل کا کیا ذکر)؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(اے عائشہ!) کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل کی مقدار کے علاوہ بھی کوئی عمل کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جتنی عقل انہیں عطا کی گئی تھی اسی کے مطابق ان کے اعمال ہوئے، اور جس قدر انہوں نے اعمال کیے اسی کے تناسب سے انہیں جزا و انعام دیا جائے گا۔“
اس روایت کی سند میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ کذاب راوی ہیں، اس لیے یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2768
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»