المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مُقَاتِلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَانِتِ ، وَلَا يَتِمُّ لِرَجُلٍ حُسْنُ خُلُقٍ ، حَتَّى يَتِمَّ عَقْلُهُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَتِمُّ أَمَانَتُهُ ، وَإِيمَانُهُ ، أَطَاعَ رَبَّهُ ، وَعَصَى عَدُوَّهُ إِبْلِيسَ .سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک آدمی اپنے عمدہ اخلاق کی بدولت اس شخص کا درجہ پا لیتا ہے جو کثرت سے روزے رکھنے والا اور (عبادت میں) عاجزی و فرماں برداری اختیار کرنے والا ہو، اور کسی شخص کا حسنِ اخلاق اس وقت تک پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچتا جب تک کہ اس کی عقل کامل نہ ہو جائے، چنانچہ جب اس کی عقل مکمل ہو جاتی ہے تو اسی وقت اس کی امانت داری اور اس کا ایمان بھی کمال کو پہنچ جاتا ہے، ایسی صورت میں وہ اپنے رب کی فرماں برداری کرتا ہے اور اپنے دشمن ابلیس کی نافرمانی کرتا ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے کیونکہ اس کا راوی مقاتل بن سلیمان متروک و کذاب ہے، امام بیہقی نے اسے 'شعب الایمان' (8000) میں اور ابن ابی الدنیا نے 'العقل وفضلہ' (14) میں روایت کیا ہے۔